“کوئی وقت تھا کہ ہر موسم ایسے اپنی آمد کا اعلان کرتا تھا، جیسے کوئی پُرانی اور مہذب معاشرت کا علمبردار مسافر فصیل شہر کے باہری بلند دروازے کے سامنے کھڑا شسُتہ لہجے میں اندر آنے کی اجازت مانگے۔ فصیل شہر سے جب محافظ نیچے جھانکنیں تو انھیں ایک خوش پوشاک اور معتبر ہستی نظر آئے۔ جس کے انداز، لباس، اسلوب اور مختصر مگر نفیس زادِراہ سے اس کی ذات میں مضمر کئی صدیوں کی تمدنی اور اخلاقی رعنائی ٹپکتی ہو۔ کچھ اس طرح آتے تھے کبھی موسم میرے اس شہر میں۔” NostalgiaLahore Book:Ghuroob e Shehr Ka Waqt غروبِ شہر کا وقت Source: Ghuroob e Shehr Ka Waqt غروبِ شہر کا وقت