Quotessence
Home / Quotes / Quote / Image

Quote image editor KRISHAN CHANDAR

Back to previous page

“کیا میں نے تو تیری تصویر کے ذریعہ مجھ سے بہت کچھ کہا ہے لاچی ، پھر تو سنتی کیوں نہیں ، کیا تو صرف اس میں اپنی شخصیت دیکھتی ہے اپنی صورت کا عکس، اپنے من کے خدو خال ، لیکن میری روح کا جمال مجھ سے کیوں پوشیدہ ہے۔ یہ میرے ترسے ہوئے برش کے رنگ انھوں نے تیری تصویر میں کتنی نادیدہ جسرتوں کے رنگ برنگے گلزا کھلا دیتے ہیں۔ اری تو کیسی لڑکی ہے ؟ میرے دل کا لہو بھی نہیں دیکھ سکتی ؟ اب میں تجھ سے کیا کہوں ؟ خوب چند خاموش نگاہوں سے لاچی کی تصویر کی طرف دیکھتا رہا اور کچھ نہ بولا. اس نے لاچی کے کسی سوال کا جواب نہ دیا۔ اس کے منہ سے ایک آہ تک نہ نکلی ۔ اس کی آنکھوں میں ایک آنسو تک نہ آیا ۔ بس وہ خاموشی سے مٹھیاں بھینچے ہختی سے ہونٹ بند کئے تصویر کے سامنے چپ چاپ کھڑا رہا. لاچی کیا ایک اس کے پاس آگئی ۔ اس نے خوب چند کے کندھے پر دھیرے سے اپنا ہاتھ رکھ دیا اور بہت سے مدھم اور سیٹی آواز میں بولی اگر میں گل سے پیار نہ کرتی تو تیری ہو جاتی سپری ٹان ! " خود چند یک بارگی چونگا۔ پھر اس کے ہاتھوں کی مٹھیاں تن گئیں ۔ اس کا سارا جسم طوفان میں لرزنے والے پتے کی طرح کا نیا اور کانپ کر ایکا ایک ساکت ہو گیا۔ گویا پتہ ڈال سے گھر گیا اور ہواؤں کے تھپیڑے کھاتا ہوا کہیں دور فضا میں کھو گیا ۔ موت کی وادیوں میں ہمیشہ کیلئے کھو گیا ۔” — KRISHAN CHANDAR

Quote 1080 x 1350 Instagram portrait
More
Platforms
Pure ratios
کیا میں نے تو تیری تصویر کے ذریعہ مجھ سے بہت کچھ کہا ہے لاچی ، پھر تو سنتی کیوں نہیں ، کیا تو صرف اس میں اپنی شخصیت دیکھتی ہے اپنی صورت کا عکس، اپنے من کے خدو خال ، لیکن میری روح کا جمال مجھ سے کیوں پوشیدہ ہے۔ یہ میرے ترسے ہوئے برش کے رنگ انھوں نے تیری تصویر میں کتنی نادیدہ جسرتوں کے رنگ برنگے گلزا کھلا دیتے ہیں۔ اری تو کیسی لڑکی ہے ؟ میرے دل کا لہو بھی نہیں دیکھ سکتی ؟ اب میں تجھ سے کیا کہوں ؟ خوب چند خاموش نگاہوں سے لاچی کی تصویر کی طرف دیکھتا رہا اور کچھ نہ بولا. اس نے لاچی کے کسی سوال کا جواب نہ دیا۔ اس کے منہ سے ایک آہ تک نہ نکلی ۔ اس کی آنکھوں میں ایک آنسو تک نہ آیا ۔ بس وہ خاموشی سے مٹھیاں بھینچے ہختی سے ہونٹ بند کئے تصویر کے سامنے چپ چاپ کھڑا رہا. لاچی کیا ایک اس کے پاس آگئی ۔ اس نے خوب چند کے کندھے پر دھیرے سے اپنا ہاتھ رکھ دیا اور بہت سے مدھم اور سیٹی آواز میں بولی اگر میں گل سے پیار نہ کرتی تو تیری ہو جاتی سپری ٹان ! " خود چند یک بارگی چونگا۔ پھر اس کے ہاتھوں کی مٹھیاں تن گئیں ۔ اس کا سارا جسم طوفان میں لرزنے والے پتے کی طرح کا نیا اور کانپ کر ایکا ایک ساکت ہو گیا۔ گویا پتہ ڈال سے گھر گیا اور ہواؤں کے تھپیڑے کھاتا ہوا کہیں دور فضا میں کھو گیا ۔ موت کی وادیوں میں ہمیشہ کیلئے کھو گیا ۔
— KRISHAN CHANDAR