“کیا میں نے تو تیری تصویر کے ذریعہ مجھ سے بہت کچھ کہا ہے لاچی ، پھر تو سنتی کیوں نہیں ، کیا تو صرف اس میں اپنی شخصیت دیکھتی ہے اپنی صورت کا عکس، اپنے من کے خدو خال ، لیکن میری روح کا جمال مجھ سے کیوں پوشیدہ ہے۔ یہ میرے ترسے ہوئے برش کے رنگ انھوں نے تیری تصویر میں کتنی نادیدہ جسرتوں کے رنگ برنگے گلزا کھلا دیتے ہیں۔ اری تو کیسی لڑکی ہے ؟ میرے دل کا لہو بھی نہیں دیکھ سکتی ؟ اب میں تجھ سے کیا کہوں ؟ خوب چند خاموش نگاہوں سے لاچی کی تصویر کی طرف دیکھتا رہا اور کچھ نہ بولا. اس نے لاچی کے کسی سوال کا جواب نہ دیا۔ اس کے منہ سے ایک آہ تک نہ نکلی ۔ اس کی آنکھوں میں ایک آنسو تک نہ آیا ۔ بس وہ خاموشی سے مٹھیاں بھینچے ہختی سے ہونٹ بند کئے تصویر کے سامنے چپ چاپ کھڑا رہا. لاچی کیا ایک اس کے پاس آگئی ۔ اس نے خوب چند کے کندھے پر دھیرے سے اپنا ہاتھ رکھ دیا اور بہت سے مدھم اور سیٹی آواز میں بولی اگر میں گل سے پیار نہ کرتی تو تیری ہو جاتی سپری ٹان ! " خود چند یک بارگی چونگا۔ پھر اس کے ہاتھوں کی مٹھیاں تن گئیں ۔ اس کا سارا جسم طوفان میں لرزنے والے پتے کی طرح کا نیا اور کانپ کر ایکا ایک ساکت ہو گیا۔ گویا پتہ ڈال سے گھر گیا اور ہواؤں کے تھپیڑے کھاتا ہوا کہیں دور فضا میں کھو گیا ۔ موت کی وادیوں میں ہمیشہ کیلئے کھو گیا ۔”
Quote by KRISHAN CHANDAR
Author
You May Also Like
“You've been breaking my heart since the day that we met.”
Source: I Took a Plane to Die in Denver
“You saw my heart bleeding out and just turned your head away.”
Source: I Took a Plane to Die in Denver
“All those years without you made holidays feel unimportant to celebrate.”
Source: I Took a Plane to Die in Denver
Source: Victor's Blessing
Source: Azad Earth Army: When The World Cries Blood
Source: A Song of Sin and Salvation
“I lost someone who didn't give a f*ck. But you lost someone who did.”
Source: I Took a Plane to Die in Denver
Source: The Forgotten Duke
Source: Azad Earth Army: When The World Cries Blood