Quotessence
Home / Topics / Inner Turmoil Quotes

Inner Turmoil Quotes

Browse 27 quotes about Inner Turmoil.

Inner Turmoil Quotes

“کیا میں نے تو تیری تصویر کے ذریعہ مجھ سے بہت کچھ کہا ہے لاچی ، پھر تو سنتی کیوں نہیں ، کیا تو صرف اس میں اپنی شخصیت دیکھتی ہے اپنی صورت کا عکس، اپنے من کے خدو خال ، لیکن میری روح کا جمال مجھ سے کیوں پوشیدہ ہے۔ یہ میرے ترسے ہوئے برش کے رنگ انھوں نے تیری تصویر میں کتنی نادیدہ جسرتوں کے رنگ برنگے گلزا کھلا دیتے ہیں۔ اری تو کیسی لڑکی ہے ؟ میرے دل کا لہو بھی نہیں دیکھ سکتی ؟ اب میں تجھ سے کیا کہوں ؟ خوب چند خاموش نگاہوں سے لاچی کی تصویر کی طرف دیکھتا رہا اور کچھ نہ بولا. اس نے لاچی کے کسی سوال کا جواب نہ دیا۔ اس کے منہ سے ایک آہ تک نہ نکلی ۔ اس کی آنکھوں میں ایک آنسو تک نہ آیا ۔ بس وہ خاموشی سے مٹھیاں بھینچے ہختی سے ہونٹ بند کئے تصویر کے سامنے چپ چاپ کھڑا رہا. لاچی کیا ایک اس کے پاس آگئی ۔ اس نے خوب چند کے کندھے پر دھیرے سے اپنا ہاتھ رکھ دیا اور بہت سے مدھم اور سیٹی آواز میں بولی اگر میں گل سے پیار نہ کرتی تو تیری ہو جاتی سپری ٹان ! " خود چند یک بارگی چونگا۔ پھر اس کے ہاتھوں کی مٹھیاں تن گئیں ۔ اس کا سارا جسم طوفان میں لرزنے والے پتے کی طرح کا نیا اور کانپ کر ایکا ایک ساکت ہو گیا۔ گویا پتہ ڈال سے گھر گیا اور ہواؤں کے تھپیڑے کھاتا ہوا کہیں دور فضا میں کھو گیا ۔ موت کی وادیوں میں ہمیشہ کیلئے کھو گیا ۔”

“They'll probably say I'm crazy or even mad, and maybe they're right—I should have kept my distance. There were so many things I wanted to say, truths I wanted to share, but I knew they would only cause pain. So instead, I buried those thoughts deep inside and let the pain consume me. No matter how much I tried to explain, it wouldn't have made a difference. I couldn't even understand the turmoil within myself, so how could I possibly make them understand? As time passes, I find myself growing weaker, but with that weakness comes a strange relief. The less I remember, the less I can be hurt. The fading memories bring a certain numbness, and with it, the suffering begins to fade too.”

“کاش میرے لئے بھی کوئی تھک جائے ، چور ہو جائے . اس قدر مجبور ہو جائے کہ اگر اس کی جیب میں ایک پیسہ بھی نہ ہو تو چلتے چلتے کسی بھاڑی سے ایک پھول ہی توڑ کر میرے لئے لے آئے ۔”

“ملن کی رات آئی تھی۔ مگر کسی کے لئے کتنی مہیب اور خوفناک ، ڈر اور وحشت سے معمور ، اور کسی کیلئے کیسی چمک دار اور درخشندہ کائنات کی ساری خوشبوؤں سے بھر پور ایک ہی رات تھی۔ مگر دونوں کیلئے کتنی مختلف تھی ۔ لایی اطمینان کی ٹھنڈی سانس بھر کر گل کے سینے سے لگ کر سوگئی تھی۔ اور گل سوچ رہا تھا، یہ ایک رات میں دو راتیں کیسے ممکن ہیں ؟ ایک رات تاریک اور سیاہ ، گہری اور اتھاہ بدہیئت اور بدبو دار ، غلاظت اور نجاست سے معمور، اور دوسری رات ستھرے ستھرے جذبات والی ، معصوم اور پاکیزہ رات، جب کہکشاں مسکراتی ہے۔ اور چاندنی سیل رواں بن کر بہتی ہے اور افق سے افق تک کسی کے ذہن میں ستاروں کے پھول کھل جاتے ہیں۔ اور محبت کی آغوش وا ہو جاتی ہے ۔ اور کوئی اطمینان کی گہری ٹھنڈی سانس لے کر اپنے آپ کو کسی کے سپرد کر دیتا ہے ۔ ہاں ایک رات اور دوسری رات میں اتناہی فرق ہے، جتنا نیکی اور بدی میں ......”

“There was something about her playing ... a knowledge of darkness in the most extreme form.” He frowned. “But it’s quite common, isn’t it? What you tend to find in the personal lives of brilliant men is devastation akin to a nuclear bomb going off. Marriages mangled. Wives left for dead. Children growing up as deformed prisoners of war—all of them walking around with holes where their hearts should be, wondering where they belong, what side they’re fighting for. Extreme wealth, like the kind Cordova married into, only magnifies the size and scope of the fallout.”