Quotessence
Home / Quotes / Quote / Image

Quote image editor Janid Kashmiri

Back to previous page

“دیدۂ دہر نے کیا کیا نہ تماشا دیکھا ہر خوشی کا یہاں زخموں سے گہرا رشتہ دیکھا کہیں امیدوں کے چراغ بجھتے رہے خاموشی سے کہیں حسرتوں کو خواہشوں کے پہلو میں مرتا دیکھا وقت نے کیسے کیسے کھیل کھیلے دنیا کے محبت کو شکست، نفرت کو پنپتا دیکھا دلوں میں بستیاں بھی اجڑ گئیں لمحوں میں بے بسی کو زندگی کے دروازے پہ روتا دیکھا دیدۂ دہر کبھی سمجھ نہ سکا یہ راز کیوں ہر مسکان کے پیچھے غم کا سایہ دیکھا؟ پھر بھی یہ دل صدیوں سے سوال کرتا رہا کہ روشنی کے بعد پھر اندھیرا کیوں دیکھا؟” — Janid Kashmiri

Quote 1080 x 1350 Instagram portrait
More
Platforms
Pure ratios
دیدۂ دہر نے کیا کیا نہ تماشا دیکھا ہر خوشی کا یہاں زخموں سے گہرا رشتہ دیکھا کہیں امیدوں کے چراغ بجھتے رہے خاموشی سے کہیں حسرتوں کو خواہشوں کے پہلو میں مرتا دیکھا وقت نے کیسے کیسے کھیل کھیلے دنیا کے محبت کو شکست، نفرت کو پنپتا دیکھا دلوں میں بستیاں بھی اجڑ گئیں لمحوں میں بے بسی کو زندگی کے دروازے پہ روتا دیکھا دیدۂ دہر کبھی سمجھ نہ سکا یہ راز کیوں ہر مسکان کے پیچھے غم کا سایہ دیکھا؟ پھر بھی یہ دل صدیوں سے سوال کرتا رہا کہ روشنی کے بعد پھر اندھیرا کیوں دیکھا؟
— Janid Kashmiri