Quote image editor
“دیدۂ دہر نے کیا کیا نہ تماشا دیکھا ہر خوشی کا یہاں زخموں سے گہرا رشتہ دیکھا کہیں امیدوں کے چراغ بجھتے رہے خاموشی سے کہیں حسرتوں کو خواہشوں کے پہلو میں مرتا دیکھا وقت نے کیسے کیسے کھیل کھیلے دنیا کے محبت کو شکست، نفرت کو پنپتا دیکھا دلوں میں بستیاں بھی اجڑ گئیں لمحوں میں بے بسی کو زندگی کے دروازے پہ روتا دیکھا دیدۂ دہر کبھی سمجھ نہ سکا یہ راز کیوں ہر مسکان کے پیچھے غم کا سایہ دیکھا؟ پھر بھی یہ دل صدیوں سے سوال کرتا رہا کہ روشنی کے بعد پھر اندھیرا کیوں دیکھا؟” — Janid Kashmiri
دیدۂ دہر نے کیا کیا نہ تماشا دیکھا
ہر خوشی کا یہاں زخموں سے گہرا رشتہ دیکھا
کہیں امیدوں کے چراغ بجھتے رہے خاموشی سے
کہیں حسرتوں کو خواہشوں کے پہلو میں مرتا دیکھا
وقت نے کیسے کیسے کھیل کھیلے دنیا کے
محبت کو شکست، نفرت کو پنپتا دیکھا
دلوں میں بستیاں بھی اجڑ گئیں لمحوں میں
بے بسی کو زندگی کے دروازے پہ روتا دیکھا
دیدۂ دہر کبھی سمجھ نہ سکا یہ راز
کیوں ہر مسکان کے پیچھے غم کا سایہ دیکھا؟
پھر بھی یہ دل صدیوں سے سوال کرتا رہا
کہ روشنی کے بعد پھر اندھیرا کیوں دیکھا؟