“دیدۂ دہر نے کیا کیا نہ تماشا دیکھا ہر خوشی کا یہاں زخموں سے گہرا رشتہ دیکھا کہیں امیدوں کے چراغ بجھتے رہے خاموشی سے کہیں حسرتوں کو خواہشوں کے پہلو میں مرتا دیکھا وقت نے کیسے کیسے کھیل کھیلے دنیا کے محبت کو شکست، نفرت کو پنپتا دیکھا دلوں میں بستیاں بھی اجڑ گئیں لمحوں میں بے بسی کو زندگی کے دروازے پہ روتا دیکھا دیدۂ دہر کبھی سمجھ نہ سکا یہ راز کیوں ہر مسکان کے پیچھے غم کا سایہ دیکھا؟ پھر بھی یہ دل صدیوں سے سوال کرتا رہا کہ روشنی کے بعد پھر اندھیرا کیوں دیکھا؟”
Quote by Janid Kashmiri
Author
You May Also Like
Source: Frances Perkins: Champion of American Workers
Source: Adventures of a Cat-Whiskered Girl
Source: The snake pit
Source: The Man in the High Castle
Source: Genesis Begins Again
Source: Great Contest: Russia and the West
“No matter how beautiful the summit is, you will return to the valley!”
Source: Sanmasınlar Yıkıldık