Quotessence
Home / Quotes / Quote by Marina DeAngelo 2012 .

Quote by Marina DeAngelo 2012 .

Author

Marina DeAngelo 2012 .

Browse famous quotes and profile details for Marina DeAngelo 2012 .. more

You May Also Like

“دیدۂ دہر نے کیا کیا نہ تماشا دیکھا ہر خوشی کا یہاں زخموں سے گہرا رشتہ دیکھا کہیں امیدوں کے چراغ بجھتے رہے خاموشی سے کہیں حسرتوں کو خواہشوں کے پہلو میں مرتا دیکھا وقت نے کیسے کیسے کھیل کھیلے دنیا کے محبت کو شکست، نفرت کو پنپتا دیکھا دلوں میں بستیاں بھی اجڑ گئیں لمحوں میں بے بسی کو زندگی کے دروازے پہ روتا دیکھا دیدۂ دہر کبھی سمجھ نہ سکا یہ راز کیوں ہر مسکان کے پیچھے غم کا سایہ دیکھا؟ پھر بھی یہ دل صدیوں سے سوال کرتا رہا کہ روشنی کے بعد پھر اندھیرا کیوں دیکھا؟”