Quotessence
Home / Quotes / Quote by GM Hashmi

Quote by GM Hashmi

“ک تمنا ہے میرے دِل میں ، تم اسے میری حسرت کہہ سکتے ہو . چھوڑ کے جانے کے بعد بھی ، تم مجھے اپنا کہہ سکتے ہو”

Quote by GM Hashmi

Author

GM Hashmi

Browse famous quotes and profile details for GM Hashmi. more

You May Also Like

“Spring Every time, in the same way, the world molds flower buds of yellow mustard from a lump of gold, and the breeze holds them in its undulations. Every time, in the same way, branches laden with sprouting leaves, hug the interweaving pathways. What do they think? Who knows. Every time, in the same way, raindrops filtering through clouds brimming with colour come to rattle against the copper sheet that spreads into the distance. Every year, a season, just like this, every time, this scent of absence, every morning, these harsh tears. When will the times of mourning come? Majeed Amjad”

“ہیجڑے کی سرگوشی ( ہیجڑے کا رجز" کے طنز کے جواب میں ") ! میں اور میرا رجز کیا صدیوں تلک شمشیر تھامے ہاتھ میں ، پہرہ دیا ہے روز و شب محلوں کا تھا میں پاسباں چڑیا نہ مارے پر جہاں ایک وقت تھا یہ دیس تھا جب خوش ادا میں شادمانی کا نقیبِ خاص تھا بے شک ہے مِرے اب و جد کی نسل مجھ میں منقطع بے تخم جیسے اِک شجر معدوم جو ہو جاۓ گا میں " تا قیامت " کے مقابل " مختصر " کی داستاں بس اس لیے سب کی نظر میں ، میں رہا رحمت کے ساۓ میں سدا بھولے سے میری بد دعا لیتا نہ تھا چھوٹا بڑا بدلا جہاں اب یاں فقط اِک شور ہے جن کے دماغ و قلب کی افسردگی ان پر عیاں سنتا ہوں ان کی گالیاں اس دور میں اس شور میں !کیا کر سکوں گا میں بھلا اس سوچ میں تکنے لگا سوےَ فلک میں ناگہاں مجھ کو نظر آنے لگے کڑیل جواں ، کھولے ہوۓ چھاتے ، فضا میں دور سے آتے ہوۓ سوےَ زمیں اور ان میں تھیں دو لڑکیاں آتی ہوئیں ؟آتے ہوۓ ؟ یہ فرق غائب ہو گیا کچھ لوگ تو کرنے لگے آہ و بکا ! ہے ہے غضب ! اندھیر ہے مردوں کے جیسے کام جب کرنے لگیں گی عورتیں یہ ریش ، یہ سبلت بھلا کس کام کی رہ جائے گی کیا مرد ہی اب حاملہ ہو جائیں گے اب ہم مذکر اور مؤنث کس طرح کہہ پائیں گے !ملعون کیا اب مومنوں سے فارسی بلوائیں گے ایسے خیال آنے لگے اور دل کو دہلانے لگے تانیث اور تذکیر میں الجھاؤ پھیلانے لگے مجنوں نظر آنے لگیں لیلیٰ نظر آنے لگے ،پھر مارنے دوڑے مجھے کہتے ہوۓ " بدبخت ! یہ سب ہے فقط تیری خطا " میں ہنس پڑا تالی بجا کر خوش کروں دل آپ کا چُپکے سے پھر اِتنا کہوں ہستی نہیں بس خواب گاہ نظریں اُٹھا کر دیکھ لو نیلا ہے کتنا آسماں میں بھی اُتر سکتا ہوں چھاتا کھول کر دُہراتے رہتے ہو جنہیں شام و سحر الفاظ معنی سے تہی کیا ہو گئے ؟ گردان ہی میں کھو گئے کچھ حافظے پر زور دیں شاید دکھائی دے سکے اِک ذی نفس میں آپ کو نورِ خدا”

“زندگی کا ایک اور باب طے ہونے کو ہے سفر کی ایک اور منزل اخٹام پذیر ہونے کو ہے اس دنیا کا یہی اصول ہے اے انسان اب گزے لمحے لفظوں میں بتانے کو ہے لیکن زندگی کا ایک آخری باب کھلنے کو ہے سفر کی ایک اور منزل کا آغاز ہونے کو ہے اب اُن گزرے لمحوں کے ساتھ اے انسا ن رب کے حضور پیش ہونے کو ہے”

“تجھے واپس میں لاوں کیسے تیرے بن جینا، اس دل کو سکھاوں کیسے ہوں دل شکستہ، تجھے واپس میں لاوں کیسے تجھے یاد کر کے جو گرتے ہیں آنسو میرے دنیا والوں سے ان کو چھپاوں کیسے بعد تیرے جو کچھ بھی ہے بیتا مجھ پر داستاں وہ میں تجھ کو سناوں کیسے وہ جو سویا تو اس دن تو نہ اٹھا کبھی رہا سوچتا میں کہ تجھ کو جگاوں کیسے پوچھتے ہیں یہ جو مجھ سے کہ تو کیسا تھا تیری عظمت کا انکو بتاوں کیسے تجھے بچھڑے اک عرصہ اب ہونے کو ہے مگر اس دل کو یہ یقیں میں دلاوں کیسے چہرے کی اس ہنسی پہ نہ جاو یاروں تم کو دل کے زخم میں دکھاوں کیسے تیرے ہونے سے ہی ہنستا تھا یہ دل سعدی ہوں پریشاں اب اس کو ہنساوں کیسے (سعد سلمان سعدی)”